Skip to main content
Life Style

MrBeast Surpasses India’s T-Series

By June 2, 2024No Comments

یوٹیوب کے ستارے مسٹر بیسٹ، جن کا اصلی نام جیمز اسٹیفن “جمی” ڈونلڈسن ہے، نے 266 ملین سبسکرائبرز حاصل کر کے ایک ناقابل یقین سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اس کامیابی نے انہیں بھارتی میوزک لیبل ٹی-سیریز کو پیچھے چھوڑ کر یوٹیوب کا سب سے زیادہ سبسکرائب کیا جانے والا چینل بنا دیا ہے۔

2 جون کو، 26 سالہ مسٹر بیسٹ نے اس اہم کامیابی کا جشن سوشل میڈیا پر منایا۔ مسٹر بیسٹ نے ایکس، جسے پہلے ٹویٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، پر لکھا، “6 سال بعد ہم نے آخرکار پیوڈی پائی کا بدلہ لے لیا۔” یہ تبصرہ ان کی ٹی-سیریز کو پیچھے چھوڑنے کی کامیابی کا حوالہ دیتا ہے، جو سویڈش یوٹیوبر پیوڈی پائی نے کوشش کی تھی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔

مسٹر بیسٹ نے اس سنگ میل کے ممکنہ اثرات کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ ان کی کامیابی ممکنہ طور پر بھارت اور امریکہ کے شائقین کے درمیان ایک نئے بحث کا آغاز کر سکتی ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کا مقصد صرف سب سے زیادہ سبسکرائب کیا جانے والا چینل بننا تھا، نہ کہ ممالک کے درمیان تقسیم پیدا کرنا۔ “میں صرف سب سے زیادہ سبسکرائب کیا جانے والا چینل بننا چاہتا ہوں۔ ہاں، میرے پاس بہت سے لوگ ہیں جو میری مدد کر رہے ہیں، لیکن آخر میں، میں نے یہ چینل شروع کیا۔ میں اس کو جیتا ہوں اور اس میں سانس لیتا ہوں۔ میں ایک تخلیق کار ہوں،” انہوں نے کہا۔

یہ لمحہ مسٹر بیسٹ کے کیریئر میں ایک اہم نقطہ ہے، جو ان کی محنت اور ان کی ٹیم اور مداحوں کی طرف سے ملنے والے وسیع تعاون کو اجاگر کرتا ہے۔ اپنی تفصیلی اور اکثر فلاحی ویڈیوز کے لیے مشہور، مسٹر بیسٹ نے برسوں میں ایک وسیع فالوونگ بنا لی ہے۔

یوٹیوب کی چوٹی تک پہنچنے کا ان کا سفر ان کی تخلیقی صلاحیت، محنت اور ان کے ناظرین کے ساتھ تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ ٹی-سیریز کو پیچھے چھوڑنا ایک شاندار کامیابی ہے، مسٹر بیسٹ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں کہ وہ مزید دل چسپ مواد تخلیق کریں اور پلیٹ فارم پر اپنی پہنچ کو وسعت دیں۔ یہ سنگ میل نہ صرف ان کی کامیابی کا جشن ہے بلکہ یوٹیوب مواد کی تخلیق کی دنیا میں ایک نیا معیار بھی قائم کرتا ہے۔

Avais Raza

Avais Raza

Armed with years of experience and an innate sense of style, Avais is more than just a fashion enthusiast – he is a trusted authority in the industry.

Leave a Reply